
تلنگوں کی سیاسی نا پختگی
یوتھیے 2018 میں وزارت عظمی کا تاج عمران نیازی کے سر پر سجانے پر بضد ہیں- مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں اور مبارک بادیاں دی جا رہی ہیں-“بلی کو چھیچھیڑوں کے خواب “- عمران خان وزیر اعظم نہیں بنیں گے-اور یہ شخص مملکت خداداد پاکستان کا وزیر اعظم بن گیا تو ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہو گا-یہ شخص یہودی ہنودی ایجنٹ ہے اور ملک کو ایک صیہونی ہنودی سٹیٹ بنا دے گا-حکومت سمبھالتے ہی یہ یہودی سٹیٹ اسرائیل کو تسلیم کر لے گا-یوتھیے اتنی عجلت میں ہیں کہ عمران خان نے شیروانی بھی سلوا لی ہے اور پہلے خطاب کا مسودہ بھی لکھوا لیا ہے- “بھوکا جٹ کٹورہ لبا پی پی آپھریا” تحریک انصاف کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے یہ تلنگوں کا جھرمٹ ہے جو بندروں کی طرح اچھل کود کرتا ہے اور شور شرابہ اور ڈھینگا مشتی کرتا ہے اور ملک میں فساد پھیلاتا ہے-الیکشن جیتنے سے پہلے ہی پہلے سو دن کا منشور دینا یک سیاسی نا پختگی ہے-اسد عمر نے تو پچاس لاکھ سستے مکانات اور ایک کروڑ نوکریاں بھی دے دی ہیں-بیوقوفوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں کیا؟پنجاب اور کے پی کے کی عبوری حکومتوں کے وزیر اعلی کے نامزدگی کے معاملہ میں بھی یوتھیوں نےسقراط کی سی ذہانت دکھائی ہے ما شااللہ سبحان اللہ-مشاورت سے وزرائے اعلی کی نامزدگی کا اعلان کیا گیا اور پھر خیال آیاکہ غلطی ہو گئی ہے اور جھٹ پٹ نام واپس لے لئے- پنجاب میں ناصر کھوسہ کا نام پی ٹی آئی نے خود پیش کیا اور اس پر اصرار بھی کیا جو پنجاب حکومت نے قبول کر لیا اور میڈیا میں اس کا اعلان بھی کر دیا گیا-اب پی ٹی آئی کو خیال آیا ہے کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے اور اب وہ اسے واپس لینا چاہتے ہیں جو شاید آئینی طور پر ممکن نہیں ہے-
ناصر کھوسہ سپریم کورٹ کے جج عظمت سعید کھوسہ کے بھائی ہیں اور پنجاب کے چیف سیکریڑی رہ چکے ہیں -ایک عزت دار اور کمپیٹنٹ شخصیت ہیں-اور شاید وہ کسی جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہیں گے-اور وزیر اعلی بننا ہی نہیں چاہیں گے-منظور آفریدی کے نام کا بطور نگران وزیر اعلی اعلان کرکے پھر معاملہ متنازیہ بنایا جا رہا ہے-معاملات کو متنازیہ بنانا اور پھر بندروں کی طرح اتھک پھدک کرنا یہی یوتھیوں کی سیاست ہے اور یہی انکے عقل و شعور کا معیار ہے-لوگو ہشیار رہو بیوقوفوں اور بےعقلوں کے ہاتھوں میں اپنے بچوں کیے مستقبل کے فیصلے مت دو- یہ پوری قوم کو سمندر میں ڈبو دینگے اور خود اپنے فرنگی آقاؤں کی گود میں جا بیٹھے گے-اللہ میرے ملک کو نا اہل قیادت سے بچائے-
الطاف چودھری
30.05.2018
Leave a Reply